پاکستان میں آزادی صحافت پر حملہ، پاکستان پریس کلب یوکے کا شدید احتجاج

پاکستان بھر میں مظاہرے ، برطانیہ میں صحافی برادری کا ہنگامی اجلاس ، اگلا لائحہ عمل طے
لندن (رپورٹ: ڈی نیوز24)پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغن اور فیک نیوز کے نام پر قید و جرمانے کے قانون کے خلاف پاکستان پریس کلب یوکے کی ایک اہم ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں برطانیہ بھر سے سینئر صحافیوں اور پریس کلب کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت پاکستان پریس کلب یوکے کے مرکزی صدر ارشد رچیال نے کی، جبکہ سیکرٹری جنرل مسرت اقبال نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
مرکزی صدر ارشد رچیال نے خطاب میں کہا کہ صحافیوں کے حقوق چھیننے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کیا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور دیگر چار صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر حکومت نے یہ بل پاس کرنے کی کوشش کی، جو آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے برطانیہ کے تمام شہروں میں صحافیوں سے احتجاج کی اپیل کی۔اس کے علاوہ مانچسٹر، شیفیلڈ، لوٹن، لندن ،برمنگھم اور دیگر شہروں میں مظاہروں کا اعلان کردیا گیا ہے۔
صدر مانچسٹر برانچ اسحاق چوہدری نے بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک افسوسناک ہے اور اس کے خلاف مانچسٹر میں بھی احتجاج کیا جائے گا۔صدر شفیلڈ برانچ شفقت مرزا نے میٹنگ کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون عوام اور صحافیوں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے، جس کے خلاف شیفیلڈ میں بھی احتجاج کیا جائے گا۔صدر لوٹن برانچ اسرار راجہ نے تجویز دی کہ اس قانون کے خلاف فوری طور پر پریس ریلیز جاری کی جائے اور اگر ضرورت پڑی تو احتجاج بھی کیا جائے گا۔صدر لندن برانچ میر اکرام نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی جاتی ہے اور اس کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے۔صدر برمنگھم برانچ سید عابد کاظمی نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے اور ہم اس کالے قانون کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ایگزیکٹو ممبر زاہد نور نے کہا کہ یہ ایکٹ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافیوں پر بھی اثر انداز ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس کے خلاف پریس ریلیز کے ساتھ تمام شہروں میں احتجاج بھی ہونا چاہیے۔سابق صدر پاکستان پریس کلب یوکے شیراز خان نے کہا کہ یہ معاملہ صرف صحافیوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔ پیکا آرڈیننس صحافت کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش ہے اور اس کے خلاف برطانیہ سمیت یورپ بھر میں بھی احتجاجی مظاہرے ہونے چاہئیں۔سینئر نائب صدر مرزا آفتاب بیگ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر اجتماعی فیصلوں کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ایگزیکٹو ممبر عتیق الرحمان نے بھی تجویز دی کہ مقامی سطح پر مظاہرے کیے جائیں۔

مرکزی صدر ارشد رچیال نے تمام برانچ صدور اور ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے احتجاج ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام شہروں میں احتجاج کرنے کی ہدایت جاری کی اور کہا کہ قونصل خانوں کے باہر کیے جانے والے مظاہروں میں تحریری پٹیشن بھی دی جائیں گی تاکہ حکام تک صحافیوں کی آواز پہنچائی جا سکے۔ممبر سپریم کونسل اکرام چوہدری نے تجویز دی کہ مرکزی کابینہ ہر مظاہرے میں شامل ہو اور لندن میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہرے میں تمام صحافیوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔سیکرٹری نشر و اشاعت نادیہ راجہ نے کہا کہ اپنی آواز حکام بالا تک پہنچانے کے لیے احتجاجی مظاہرے وقت کی اشد ضرورت ہیں۔ایگزیکٹو ممبر امجد بیگ نے پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔آخر میں سیکرٹری جنرل مسرت اقبال نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پریس کلب یوکے آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔پاکستان پریس کلب یوکے نے پیکا ایکٹ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے برطانیہ بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ لندن، مانچسٹر، برمنگھم، شیفیلڈ، لوٹن سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جانب سے ترامیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر یہ ترامیم منظور کی ہیں، جو آئین کی روح کے منافی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کی مبہم زبان اور وسیع اختیارات کے باعث ان کا غلط استعمال ممکن ہے، جو آزادیٔ صحافت اور اظہارِ رائے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

چند روز قبل پیکا ترمیمی ایکٹ کی سینیٹ سے منظوری کے بعد صحافیوں نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کیے ہیں۔ اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر شروع ہونے والا احتجاج ڈی چوک پر پارلیمنٹ ہاؤس تک جا پہنچا جہاں صحافیوں نے حکومتی اقدام پر شدید تنقید کی اور اسےکالا قانون قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔صحافیوں کی مختلف تنظیموں کے ساتھ اپوزیشن جماعتیں بھی اس قانون کی مخالفت کر رہی ہیں۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد آزادی اظہارِ رائے کا خاتمہ اور لوگوں کو معلومات کے حق سے محروم کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے منگل کو سینیٹ اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس قانون کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو اٹھایا جا سکتا ہے۔تاہم حکومت ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے یہ قانون ضروری ہے۔جبکہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ،مظاہرے میں صحافیوں ، سول سوسائٹی ، مزدور یونین اور اخبار فروش یونین کے رہنماؤں سمیت دیگر نے بھی شرکت کی ۔مظاہرے سےخطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے مرکزی نائب صدر سلیم شاہد نے کہا کہ حکومت پیکا ترمیمی بل کے زریعے آزادی صحافت کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے اور عوام کی حقائق تک رسائی کے بنیادی حق کو سلب کرنے کی کوشش کررہی ہے جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کے ذریعے آزادی صحافت پر قدغن لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کو ملک بھر میں ہر طبقہ فکر کے لوگ شدید تنقید کا نشانہ بنارہےہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ترمیمی بل کا مسودہ صحافی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر ہی ایوان میں پیش کیا گیا جو صحافیوں کے ساتھ عوام کے ساتھ بھی امتیازی سلوک کے مترادف ہے ۔ احتجاجی مظاہرے سے صدر کوئٹہ پریس کلب ، عبدالخالق رند ، سنئیر صحافی رشید بلوچ ، مزدور رہنما عابد بٹ نے بھی خطاب کیا اور پیکا ترمیمی بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پیکا ترمیمی بل کو مسترد کیا اور کہا کہ میڈیا سے متعلق قوانین ملک میں پہلے سے موجود ہیں اس لیے عجلت میں قانون سازی کے بجائے ان ہی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے