جنگِ آزادی پاکستان

جنگیں ہمیشہ کسی مقصد کے حصول کیلئے لڑی جاتی ہیں ۔ مقصد کا تعین کرنے والے اسکے اصول مرتب کرتے ہیں اور انہی اصولوں کو مدِ نظر رکھ کر وہ اپنے نصب العین کی طرف پہلا قدم اُٹھاتے ہیں ۔ جنگیں کبھی ختم نہیں ہوتیں اگر جنگیں ختم ہو جاتیں تو امن کا بھی خاتمہ ہو جائے۔ جنگیں مختلف محاذوں پر لڑی جاتی ہیں اور جنگ یا جدوجہد کا مقصد امن ، آفیت ، آسودگی ، ظاہری نفسیاتی ، ذاتی، معاشرتی ، معاشی خوف سے نجات ، ملکی سلامتی سے لیکر انسان کے ذھن میں پیدا ہونے والے انگنت وسوسے ، واہمے ، خود غرضی ، مجرمانہ نفسیات و امراض ، عقیدے کی برتری ، دولت کا حصول اور ظالمانہ سوچ سے لیکر رنگ و نسل کی برتری جیسے عوامل اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ جنگیں صرف ہتھیار بند فوجیں ہی نہیں لڑتیں بلکہ فوجوں کو لڑانے والی سوچ و فکر ہی وہ قوت ہوتی ہے جو سپاہی کو ہتھیار مہیا کرتی ہے اور پھر تربیت دے کر میدانِ جنگ میں لا کھڑا کرتی ہے۔ جنگ لڑنے اور جیتنے کیلئے صرف ہتھیاروں کی ہی نہیں بلکہ عزم ، حوصلے ، قوت ارادی، منصوبہ سازی اور حکمت ِ عملی کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ فوجی حکمتِ عملی ہمیشہ ہی سیاسی ، اقتصادی ، معاشی اور ملی یکجہتی کی محتاج رہی ہے۔ دُنیا میں لڑی جانے والی جنگیں اور دیگر مہمات بیان کردہ اصولوں اور حکمتِ عملی کے تحت ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئیں یا پھر کسی ایک اصول یا تدبیر میں کوتاہی کی وجہ سے آخری مرحلے پر ناکامی میں بدل گئیں ۔
اگر ہم ایسی غلطیوں اور کوتاہیوں کے نتیجے میں ہونے والی ناکامیوں کو ترتیب دیں تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو جبکہ مقصد کے حصول کیلئے متعین نصب العین پر چل کر مقصد کی تکمیل کرنے والے افراد کی تعداد انتہائی محدود ہوتی ہے۔ جنگ یا جدوجہد کسی بھی نوعیت کی کیوں نہ ہو ضروری ہے کہ اُس کی منصوبہ بندی کرتے وقت زندگی کے سارے عوامل کو مدِ نظر رکھا جائے ۔ زندگی کے اِن عوامل میں اولیت سیاسی، معاشی اور معاشرتی عمل کی ہے جسے عصبیت ، عقیدت ، عملیت ، ثقافت اور روایت کی قوت سے مضبوط و مستحکم کیا جا تا ہے۔
سیاست کا اولین مقصد معاشرے کی ساری اکائیوں کو باہم جوڑ کر رکھنا اور اُنھیں ایک نظریے اور عقیدے پر مبنی نصب العین پر متفق اور متحد رکھنا ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک ہی مذھب ، عقیدے اور کسی عقلی نظریے کو علمی یا علاقائی قبائیلی روایات کے تحت ماننے والے کسی اعلیٰ مقصد کیلئے کسی قائد یا لیڈر کی قیادت اور اُس کی وضع کردہ حکمت عملی پر متفق اور متحد ہو جائیں ۔ اختلاف رائے اور اظہار رائے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ہر معاشرے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو علم و آگاہی کے باوجود محض خود غرضی ، خود فہمی اور اپنی اہمیت اجاگر کرنے یا پھر کسی ذاتی بغض و عناد ، لالچ اور ہوس اقتدار کے مدِ نظر اختلافات کی وجوہات پیدا کرلیتے ہیں ۔ ابنِ خلدون کے مطابق یہ تیسری قسم کے لوگ ہوتے ہیں جن پر علم کا اثر نہیں ہوتا ۔ ابنِ خلدون نے قرآن حکیم سے اخذ کردہ فارمولے کے تحت انسانوں کے تین درجے بیان کیے ہیں ۔ جن میں پہلا درجہ ذھین افراد کا ہے جو کم محنت سے اعلیٰ علمی، عقلی ، روحانی اور اخلاقی درجات حاصل کر لیتے ہیں ۔ لکھتے ہیں کہ اِن کی مثال زرخیز زمین جیسی ہے جو کم پانی کے باوجود سر سبز و شاداب رہتی ہے ۔ جسپر منافع بخش فصلیں اُگتی ہیں اور مخلوق خُدا کو فائدہ پہنچاتی ہیں ۔ دوسری قسم اُن لوگوں کی ہے جو محنت ، محبت اور جستجو سے آگے بڑھتے ہیں اور علمی قابلیت اور عقلی دلائل کی قوت سے پہلی قسم کے لوگوں کے درجے پر فائیز ہو جاتے ہیں ۔ یہ جس شعبے سے متعلق ہوں اس میں بامِ عروج پر پہنچ جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ نرم خو، بردبار ، تحمل مزاج اور غور و فکر کرنے والے مصلح اور معمار ہوتے ہیں ۔ اِن کی مثال اُس زمین جیسی ہے جو کنووٗں سے سیراب ہوتی ہے ۔ جس کے سینے پر ٹھنڈے اور میٹھے چشمے بہتے ہیں ۔ باغوں اور دلفریب مناظر سے زمین پر ہمیشہ ہی قدرتی حسن کا سائیہ پر بہار رہتا ہے ۔ تیسری قسم کے لوگ کبھی بھی محمود علم سے فیض یاب نہیں ہوتے اور نہ ہی اُن پر علم کا کوئی مثبت اور منافع بخش اثر ہوتا ہے ۔ اُن کی زندگی کا مقصد مضریت پھیلانا اور معاشرے میں تفریق و تقسیم کا عمل جاری رکھنا ہے ۔ شہرت اور شہوت ہی اُن کا نصب العین ہوتا ہے اور اسی کے حصول کی خاطر وہ اللہ کے احکامات سے باغی ہو کر دین کی تشریح اپنے مقاصد کے پیشِ نظر کرتے ہیں ۔ شیخ سعدیؒ نے ان کی مثال حضرت نوحؑ کی منکر بیوی اور اصحابؓ کہف کے کتے سے دی ہے ۔ حضرتِ نوح ؑ کی بیوی پر پیغمبر ؑ کی صحبت کا کوئی اثر نہ ہوا اور اصحابؓ کہف کا کتا چند روز نیکو کاروں میں رہا اور جنت کا حقدار ٹھہرا۔
بلم بن عور ، قارون اور دیگر کی مثالیں اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ فرمان ربی ّ ہے کہ وہ علما جو دوسروں کا حق کھاتے ہیں ، دین کی غلط اور من گھڑت تشریح کرنے کا حکمرانوں سے معاوضہ لیتے ہیں ، برائیوں سے نہیں روکتے اور جابر اور ظالم حکمرانوں کا ساتھ دیتے ہیں ۔ اپنی علمیت، عقلیت اور روحانیت کا پرچار کرتے اور عوام کو دھوکہ دیکر لوٹتے ہیں اُن کی مثال گدھے جیسی ہے جسپر کتابوں کا بوجھ ہو اور اُس کتے جیسی ہے جس کی فطرت میں ہانپنا ہے۔
ابنِ خلدون کے نظریے میں ان کی مثال اُس بنجر زمین جیسی ہے جسپر نہ چشمے پھوٹتے ہیں ، نہ دریا بہتے ہیں ، نہ بارش کا پانی اثر کرتا ہے اور نہ ہی کوئی سائیہ دار اور پھلدار درخت اُگتا ہے۔
لکھتے ہیں کہ عمرانیات کی سب سے معتبر اور مستند تاریخ قرآنِ حکیم ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے کہ ابتدائے آفر نیش سے ہی شیطان نے اولادِ آدم ؑ کو ورغلانے اور اُنھیں صراطِ مستقیم سے ہٹا کر دنیا میں شر و فساد پھیلانے کا عہد کیا اور قیام قیامت تک اللہ سے اس کی مہلت بھی مانگ لی ۔ آپ ؐ کی ولادت با سعادت سے پہلے ہر پیغمبری دور میں حق کا راستہ روکنے اور دُنیا میں شر و فساد پھیلانے والوں کی سعی جاری رہی مگر حق ہمیشہ غالب رہا۔ شیطانی قوتوں نے ایک اللہ بزرگ و برتر کے مقابلے میں اپنے اپنے مادی خُدا تراش لیے اور اُن کی عبادت کرنے لگے ۔ نظریہ حق کے مقابلے میں کئی نظریے ، عقیدے اور ادیان پیش کیئے مگر حق کا راستہ نہ روک سکے ۔

انسانی تاریخ تضادات کا مجموعہ ہے۔ تاریخ عالم میں کوئی بھی ایسا دور نہیں گزرا جو حقیقی معنوں میں پر امن ، پر آسائش اور ہر طرح کے تضادات و تفکرات سے مبرا ہو۔ انسان کسی بھی حالت میں اکیلا اور معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا ۔ اسے زندہ رہنے کیلئے دیگر انسانوں سے جڑا رہنا ایک قدرتی امر ہے ۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ جب آپ دو ہوں تو معاشرہ بن جاتا ہے اور دو لوگوں کا ملکر رہنا سیاست کی ابتداٗ ہے۔ دو انسانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک کو لیڈر یا قائد تسلیم کر لیں اور جو بھی اختلافات ہوں اُنہیں باہم گفت و شنید کے بعد قائد تسلیم کیے گئے فرد کی رائے کے مطابق درست تسلیم کیا جائے ۔
حدیث نبویؐ ہے کہ سب سے بہتر زمانہ آپؐ کا ہے اور پھر دوسرے درجے پر اصحاب رسولؐ اور پھر درجہ بدرجہ زمانہ تنزلی کی طرف مائل ہوتا رہے گا ۔ آخری زمانہ ہر لحاظ سے ابتری کا شکار ہو گا جس میں اخلاص و اقدار کا خاتمہ ہو جائے گا۔
مفسرین کے مطابق جبر و ظلم کے دور میں بھی نظریہ حق کا پرچار کرنے والے افراد موجود ہونگے جو علمی ، عقلی ، سیاسی ، نظریاتی اور فکری محاذوں پر جبر و ظلم ، فسطاعت ، فرعونیت اور شیطانیت کیخلاف حالت جنگ میں رہینگے۔
موجودہ دور کے علما ٗ، فقہا اور اہلِ علم و قلم کا المیہ ہے کہ وہ علمی، عقلی ، سیاسی ، نظریاتی اور فکری محاذ پر شکست تسلیم کر چکے ہیں۔ مادی آسائشوں کے علاوہ شہرت و شہوت کی آلائشوں نے ہر سطح پر شکست خوردگی کی فضا قائم کر دی ہے جس سے نکلنا اب آسان نہیں رہا ۔ یوں تو عالمی سطح پر قیادت کا فقدان ہے اور خِطہ زمین پر بسنے والا ہر انسان بے یقینی کی کیفیت میں جی رہا ہے مگر نام نہاد عالم اسلام اور خاصکر نظریاتی اسلامی مملکت پاکستان ہر لحاظ سے شکست و ریخت کا شکار ہے ۔
پاکستان میں نظام مملکت چلانے والا کوئی بھی ادارہ مستحکم اور مضبوط نہیں رہا اور نہ ہی اِن اداروں میں ایک نظریاتی، فلاحی اور اسلامی ریاست کے نظام کو چلانے کی صلاحیت باقی رہی ہے۔ جس طرح ریاست کے اندر کئی ریاستیں قائم ہو چکی ہیں ایسے ہی اداروں کے اندر بھی ایسے ادارے قائم ہیں جو اِن اداروں کی اہمیت کو بتدریج کم کرنے اور ملک میں مافیائی نظام کے قیام کی کوششوں میں تقریباً کامیاب ہو چکے ہیں ۔
یہ سب ایک ایسی ریاست میں ہوا ہے جو نظریہ اسلام یعنی اخوت ، محبت، مساوات ، اسلامی بھائی چارے ، اخلاص ، اخلاق، عقیدت اور فضلیت کی بنیادوں پر قائم ہوئی تھی ۔ اقبال ؒ کا فلسفہ خودی اور نظریہ پاکستان ایک ہی سکے کے دو رُخ تھے جسے قائد اعظم ؒ کی رحلت کے بعد کھوٹا سکہ سمجھ کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ یہ کام اُن چار طبقات نے کیا جن کیخلاف بنگال سے لیکر کشمیر تک مسلمانوں نے عملی ، علمی ، قلمی ، سیاسی ، سماجی اور نظریاتی محاذوں پر جنگ لڑی تھی۔ انگریزی تسلط قائم کرنے میں بنگال کے نوابوں ، بڑے جاگیر داروں اور اعلیٰ اشرافیہ کے نمائیندوں نے میر جعفر اور گھسیٹی بیگم کا ساتھ دیا اور جب ناوٗ ڈوبتی دیکھی تو غلطی اور ندامت کا احساس تو ہوا مگر تب تک میر جعفر ، میر قاسم اور گھسیٹی بیگم کا دور ختم ہو چکا تھا۔

یوں تو پہلے سے ہی عظیم مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھر چکا تھا جس کی بنیادی وجہ عیاش اور سہل پسند حکمران اور جاہ پسند گورنر تھے۔ اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اُسکا بیٹا شاہ عالم 30مئی 1707میں تخت نشین ہُوا جو اُس وقت کابل کا گورنر تھا ۔ اورنگزیب کے دوسرے بیٹے اعظم شاہ نے بھی بادشاہت کا اعلان کر دیا جو اُسوقت دکن کا حاکم تھا ۔ 1707میں دونوں بھائیوں کے درمیان سامو گڑھ کے مقام پر خونریز جنگ ہوئی اور اعظم شاہ اپنے دونوں بیٹوں سمیت مارا گیا۔ اِس جنگ کے بعد اورنگزیب کے سبھی بیٹوں نے ایک دوسرے کیخلاف جنگیں لڑیں جس کی وجہ سے سکھوں ، مرہٹوں اور جاٹوں نے زور پکڑلیا۔
شاہ عالم ۔ بہادر شاہ اوّل 1709سے 1712تک حکمران رہا اور مسلسل بغاوتوں کا سامنا کرتا رہا۔ شاہ عالم بہادر شاہ اوّل کے بعد اُسکا بیٹا جہانداد شاہ اور پھر پوتا فرخ سیر ، دوسرا پوتا رفع الدرجات تخت نشین ہوا۔ وہ تپ دِق میں مبتلا ہوا اور صرف تین ماہ کی حکمرانی کے بعد وفات پا گیا۔ اُسکے بعد اُسکا بڑا بھائی رفع الدولہ شاہ جہان ثانی تخت نشین تو ہُوا مگر چھوٹے بھائی کی طرح تپ دق کا شکار ہو کر تین ماہ تک برائے نام بادشاہ رہا۔
یہ وہ پُر آشوب دور تھا جب مغل حکمران خاندان ایک طالع آزما ملک دشمن ٹولے کے ہاتھوں کا کھلونا بن چُکا تھا۔ یہ بد نام زمانہ ٹولہ سید برادران کے نام سے مشہور ہُوا جن کی سازشوں کی وجہ سے مرہٹے، سکھ، جاٹ اور جنوبی ہند میں تجارت کی غرض سے وارد ہُوئے انگریز ، فرانسیسی اور ولندیزی اسقدر طاقتور ہو گئے کہ وہ مقامی سطح پر حکمرانی کرنے لگے ۔

مقامی لوگ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی گرفت کمزور ہوتے ہی اِن غیر ملکی تجارتی کمپنیوں کی غلامی میں چلے گئے اور اُن کی مرضی کے مطابق کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ۔ ہندوو ں نے غیر ملکی آقاوٗں سے ملکر مسلمان زمینداروں ، صنعت کاروں اور جاگیر داروں کو لوٹنا شروع کر دیا ۔
سید برادران نے شاہ جہان ثانی کے بعد بہادر شاہ اوّل کے پوتے اٹھارہ سالہ شہزادہ روشن اختر کو محمد شاہ کے لقب سے تخت نشین کیا۔ محمد شاہ 1719میں تخت نشین ہوا تو اسے سید برادران کی سازشوں کا پتہ چل گیا ۔ محمد شاہ نے اپنے ایک زیرک جرنیل اور نورانی اُمراٗ کے سربراہ محمد امین خان کواپنے ساتھ ملا کر سید برادران کا خاتمہ تو کر دیا مگر جلد ہی عیش و نشاط اور رنگرلیوں میں مبتلا ہو کر محمد شاہ رنگیلا کے نام سے مشہور ہو گیا۔
محمد شاہ رنگیلا 29سال تک ہندوستان کا بادشاہ رہا مگر اپنی بری خصلتوں کی وجہ سے بابر اور اکبر کا تخت و تاج سنبھالنے میں ناکام رہا۔ اُسکے 29سالہ دور میں عظیم مغلیہ سلطنت تنکوں کی طرح بکھر گئی ۔ ملک معاشی ، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہو گیا ۔ وہ آخری بادشاہ تھا جو تخت طاوٗس پر بیٹھتا تو تھا مگر سلطنت کے معاملات سے بے خبر تھا۔ اُس کے دور میں بادشاہت کا ظاہری وقار اور دبدبہ تو برقرار رہا مگر قیادت کا عنصر مغلوب ہو گیا۔ 1739میں ایران کے بادشاہ نادر شاہ فشار نے ہندوستان پر حملہ کیا اور دِلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ وہ ستاون دِن دِلی میں رہا اور قتلِ عام کرواتا رہا ۔ نادر شاہ کے بعد سارے ہندوستان بشمول کابل اور کشمیر کے گورنر آزاد ہوگئے اور اپنی اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا ۔
محمد شاہ رنگیلا کے بعد اُسکا بیٹا احمد شاہ 1748میں تخت نشین ہوا ۔ وہ باپ سے بھی بڑھ کر عیاش تھا اور کئی کئی ماہ تک اپنے حرم سے باہر نہ نکلتا تھا ۔ 1754میں عماد الملک نے اسے معزول کیا اور بصارت سے محروم کرنے کے بعد اعظم گڑھ کے قلعے میں قید کر دیا۔ عماد الملک نے جہانداد کے بیٹے عزیزالدین عالم گیرثانی کو تخت پر بٹھا دیا مگر اسے بھی امور مملکت سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ نیک طبع ، دیندار اور درویش صفت انسان تھا۔ عالم گیرثانی کی آڑ میں عماد الملک ہی اصل حکمران تھا اور جیسے تیسے ملکی نظام چلا رہا تھا۔ عالمگیر ثانی کو اُس کے وزیروں نے قتل کروا دیا جس کی جگہ شاہ جہاں ثالث کے لقب سے مغلیہ خاندان کے ایک فرد کو تخت نشین کیا گیا ۔ عالمگیر ثانی بھی عماد الملک کا ہی مہرہ تھا جس کی بادشاہت کا اعلان ہونے سے پہلے ہی احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ احمد شاہ ابدالی کو تاریخ میں پہلا افغان بادشاہ تسلیم کیا جاتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ میر واعظ ہوتک افغانستان کا پہلا بادشاہ تھا جس نے جنوبی افغانستان کے بیشتر علاقے ایرانیوں سے آزاد کروائے اور شمال کی طرف بھی متوجہ تھا کہ اُس کا اقتدار ختم ہو گیا ۔ اسی اثنٰی میں شاہ عالم ثانی یعنی شہزادہ علی گوہر شاہ جو اُس وقت پٹنہ، بہار اور بنگال کا حاکم تھا نے اودھ کے گورنر شجاع الدولہ کی مدد سے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔
اگرچہ شاہ عالم ثانی کو مغل گورنروں اور ہندی عوام کی حمائت حاصل تھی مگر وہ دلی میں بد امنی ، شورش ، پنجاب میں افغانوں کی سکھوں سے مفاہمت اور کشمیر میں افغانوں کے جبر اور درندگی کے باعث دس سال تک دلی نہ آسکا۔ عماد الملک اور عالمگیر ثانی بھی گوشہ گمنامی میں چلے گئے مگر عالمگیر چار سال تک برائے نام ہندوستان کا بادشاہ رہا ۔ اسی دوران پانی پت کی تیسری جنگ ہوئی جس میں مرہٹوں ، جاٹوں اور اُن کی حمائت کرنے والے راجاوٗں کا تو خاتمہ ہوا مگر پنجاب میں سکھوں اور کشمیر پر افغانوں نے تسلط قائم کر لیا۔ احمد شاہ ابدالی نے شاہ عالم ثانی کو دِلی کا بادشاہ تو تسلیم کیا مگر اُس کی بادشاہت بحال کرنے اور انگریزوں کیخلاف اُس کی کوئی مدد نہ کی ۔
1764میں شاہ عالم ثانی نے بنگال کے نواب میر قاسم کی مدد کی اور بکسر کی جنگ میں انگریزوں سے شکست کھا گیا۔ شاہ عالم مغلوب ہوا تو انگریزوں نے بہار اور بنگال کے دیوانی حقوق حاصل کرنے کے بدلے میں اُسے چھبیس لاکھ سالانہ وظیفہ دینا منظور کیا اور اُسے دِلی جانے کی اجازت دے دی۔ شاہ عالم بیچارگی اور بے سروسامانی کی حالت میں مرہٹہ سردار باوٗجی سندھیا کی حفاظت میں دِلی تو پہنچ گیا مگر تب تک دِلی اُجڑ چکی تھی۔ 1788میں عبدالقادر دومیلہ نے مغلیہ حرم پر حملہ کیا اور نہ صرف شاہی محل کو لوٹا بلکہ خواتین کی بے حرمتی میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ عبدالقادر دومیلہ نے شاہ عالم کو بصارت سے محروم کیا اور بے بس بادشاہ اور اُس کے خاندان پر ظالمانہ تشدد کیا ۔
1803میں انگریز جنرل لیک نے دِلی پر حملہ کیا ۔ مرہٹوں اور دیگر فسادیوں کو شکست ہوئی اور دِلی پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار قائم ہوا۔ بے بس و لاچار اندھا مغل بادشاہ اپنے خاندان کے بچے کھچے افراد کے ہمراہ انگریزوں کا وظیفہ خوار بنا اور 1806میں زندگی کی اذیتوں سے آزاد ہو گیا۔
1806میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے شاہ عالم کے بیٹے اکبر ثانی اور اُس کے بعد اُس کے بیٹے بہادر شاہ ظفر کو 1837میں تخت نشین کیا جو اپنے باپ اور دادا کی طرح انگریزوں سے پینشن لیتا تھا ۔ دِلی اور گِردونواح کی مغل جاگیروں کے علاوہ مغلیہ اقتدار لال قلعے تک محدود رہا جو 1857کی جنگ آزادی تک برائے نام برقرار رہا۔ مغل بادشاہت کے بانی مرزا محمد ظہیر الدین بابر نے 1526میں پانی پت کے مقام پر ابراہیم لودھی کو شکست دیکر دِلی اور آگرا تک پیشقدمی کی ۔ اگلے برس 1527میں کنواہہ کے مقام پر باہر کا ہندوستان کے سب سے بڑے اور جنگجو جرنیل رانا سانگا سے مقابلہ ہوا۔ طبقات اکبری کے مطابق بابر کی فوج بیس ہزار اور رانا سانگا کا لشکر ایک لاکھ پچیس ہزار نفوس پر مشتمل تھا ۔ رانا سانگا کو میوات کے حکمران حسن خان میواتی کی بھی مدد حاصل تھی جس کی وجہ سے بابر کا نصف لشکر میدان میں کام آیا۔ بھاری نقصان کے باوجود بابر نے ہمت نہ ہاری اور آخر کار فتح یاب ہوا۔ 1528میں راجبوتوں اور بابر کے درمیان قلعہ چند یری میں گھمسان کا رن پڑا مگر راجپوتوں کو تیسری بار شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1529میں بابر نے بنگال پر لشکر کشی کی جہاں افغان گورنر نصرت شاہ نے افغان جرنیل سردار محمود کو پناہ دے رکھی تھی۔ بنگال لودھی حکمرانوں کا آخری گڑھ تھا جسکا خاتمہ کیئے بغیر بابر کی حکمرانی کسی وقت بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی ۔ گھاگرا کی جنگ میں افغانوں کو شکست ہوئی اور لودھی سرداروں نے بابر کی اطاعت قبول کر لی۔
بنگال کی فتح کے بعد بابر واپس دِلی لوٹتے ہی وہ بیمار ہو گیا اور 20دسمبر 1530میں مسلسل جدوجہد اور مصائب و الم کا سامنا کرنے کے بعد 47سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ بابر نے پانچ برس کی جدوجہد کے بعد آموں دریا سے لیکر دریائے گھاگرا تک ہزاروں میل علاقے پر قبضہ کیا سینکڑوں افغان اور ہندو راجپوت جرنیلوں اور اپنی سپاہ سے پانچ گنا بڑے لشکروں کو شکست دی۔ بابر نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو ہمایوں سے لیکر اورنگزیب تک اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ برقرار رہی۔ 1707میں اورنگزیب کا انتقال ہوتے ہی مغل سلطنت کا زوال شروع ہو گیا جس کی وجوہات ابنِ خلدون کے قرآن و احادیث سے اخذ کردہ وہ کلمات ہی تھے جنکا ذکر ہو چکا ہے ۔ وہ افراد یا اقوام جو وقت یعنی عصر کی قدر نہیں کرتیں وہ دیگر حیوانی مخلوق کی طرح اپنی طبعی عمریں گزار کر مر تو جاتی ہیں مگر افراد اور اقوام کی تاریخ میں اُن کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ وہ لوگ جو زمانے کی قدر کرتے ہیں وہ کبھی خسارے میں نہیں رہتے۔ اللہ خالق و مالک اُنھیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کرتا ہے اور وہ دیگر مخلوق کیلئے باعث برکت ہوتے ہیں ۔
اللہ کے اِن ہی بندوں میں سے جو اللہ اور اُس کے رسول ؐ اور اُس حکمران کی اطاعت کرتے ہیں جو معاشرے اور ریاست میں سب سے زیادہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کے احکامات پر کاربند ہو ۔ وہ لوگ ہی امور سلطنت چلانے میں امیر کے معاون و مشیر ہونے کا حق رکھتے ہیں ۔ ریاستی اداروں کو چلانے والے افراد کا چناوٗ بھی امیر مملکت کا ہی اختیار ہے جیسے کائیناتی ادارے خالق کے حکم سے چلتے ہیں اور اُن میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا ایسے ہی اگر امیر اھل، ذمہ دار، ایماندار اور فرض شناس افراد کا چناوٗ کرے تو ریاست کا نظام منفرد اور مثالی ہو سکتا ہے۔
ریاست مکہ کا نظام اگرچہ دین اسلام پر تو نہ تھا مگر ہر لحاظ سے منفرد اور مثالی تھا۔ ریاست کے ہرفرد کو اختیار تھا کہ وہ امورِ سلطنت چلانے والے اداروں کی بہتری کیلئے اپنی رائے کا اظہار کرے اور ان اداروں کو چلانے والے افراد دارالندواۃ (پارلیمینٹ) عوام کے سامنے جوابدہ تھے۔ یہی لوگ جب دِلوں میں نور اسلام کی روشنی لیکر مدینہ طیبہ آئے توریاست مدینہ آنیوالے ہر دور کیلئے ایک مثالی ریاست بن گئی ۔ قدیم یونانی فلاسفہ و حکماٗ کی حکمت و فلسفہ کتابوں تک محدود ہو گیا جبکہ دین اسلام عملی صورت میں نافذ ہوا۔ وہ ملک اور قومیں جو بظاہر اسلام دشمن اور دین بیزار ہیں وہاں بھی عدل و مساوات اور انسانی حقوق کو اولیت دی جاتی ہے ۔ اداروں کی مضبوطی کیلئے اہل ، باعمل اور عادل افراد کا چناوٗ کیا جاتا ہے۔ کرپشن ، لوٹ مار ، بد دیانتی ، جھوٹ و فریب کا شائبہ تک نہیں مگر مسلمان ریاستوں اور حکومتوں کا سارا نظام طاغوتی قوتوں کے قبضہ میں ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو برائیوں اور بد اعمالیوں سے مبرا ہو۔ ایسا ہی احوال اشرافیہ اور حکمران طبقوں کا ہے جو زمین پر خدا کی حاکمیت بھی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی خالق کائینات کی حکمرانی یعنی اطاعت اللہ و اطاعت رسولؐ پر یقین رکھتے ہیں ۔ ایسے حکمران ، اشراف و فقہا کے نزدیک شہرت و شہوت کا حصول ہی زندگی کا اولین مقصد ہے جو کسی بھی طرح عام لوگوں پر حکمرانی کا تو حق نہیں رکھتے مگر طاغوتی قوتوں کے جبر کی وجہ سے کبھی جمہوریت ، کبھی آمریت اور کبھی بادشاہت کی صورت میں مسلط کر دیے جاتے ہیں ۔ ہندوستان پر مغلیہ دور کی تفصیل لکھے کا مقصد نئی نسل کو باور کروانا ہے کہ ایک اکیلے شخص کی جدوجہد اور معرکہ آرائی نے ایک عظیم اور دُنیا کے زرخیز ترین خطہ زمین پر کیسے حکمرانی قائم کی جس کی بنیاد خلفائے راشدین کے دور میں رکھی گئی ۔ محمد بن قاسم سے لیکر محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری اور ابراہیم لودھی کے دور تک ہند کی مسلم ریاست کو وہ وسعت نہ ملی جو بابر کے بعد محی الدین اورنگزیب تک ہزاروں مربع میل تک پھیل چُکی تھی۔
سلاطین ہند کے بعد مغلیہ دور کے انتظامی ، عدالتی، معاشرتی ، سیاسی ، معاشی، تہذیبی و ثقافتی شعبوں کا جائیزہ لیا جائے تو کسی بھی شعبے میں بد عملی اور بد اعتدالی نظر نہیں آتی۔ بادشاہ مطلق العنان ہونے کے باوجود عوامی جذبات و احساسات کی قدر کرتے تھے ۔ عدل و انصاف کرنے والے ادارے بِلا تفریق مذھب و فرقہ امیر و غریب کو سچائی اور حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے عدل فراہم کرتے تھے۔ ٹیکسوں کے نظام میں اعتدال تھا جس کی وجہ سے ریاست خوشحال تھی ۔
بد قسمتی سے پاکستانی صحافیوں اور تاریخ دانوں کا ایک مخصوص ٹولہ تاریخ مسخ کرنے کے سوا کسی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ جو کام پاکستانی دانشوروں کا تھا اسے کسی حد تک بھارتی دانشوروں نے سر انجام دیا ۔ ایک ٹیلی وژن پروگرام میں جگنو محسن کسی پاکستانی کرسچن خاتون کا انٹرویو کر رہی تھی اور بار بار دھرا رہی تھی کہ بابر نے اپنی رہائی کے بدلے میں بہن کا سودا کیا ۔ دوسری جانب بھارتی خاتون صحافی اور تاریخ دان نے گلبدن بیگم، زیب النسا بیگم اور دیگر مغل خواتین کے علمی، ادبی ، سیاسی، ثقافتی اور معاشی کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ جگنو محسن جیسی عورتوں کو شاید پتہ ہی نہ ہو کہ گلبدن بیگم سات سال تک حجازِ مقدس میں قیام پذیر رہی اور سارے حجاز کے غربا و مساکین کی کفالت کرتی رہی۔ بھارتی دانشور ششی تھرور کی تصنیف ـ‘‘An Era of Darkness – The British Empire in India ’’ ہر لحاظ سے منفرد اور حقیقت کی ترجمان ہے۔ مسلم دور میں ہندوستان ایک خوشحال ریاست تھی جسے انگریزوں نے ظالمانہ طریقہ سے لوٹا اور اہلِ ہند پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ ریاستی ادارے جو اورنگزیب کے جانشینوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے اُنھیں انگریزوں نے تباہ کیا اور نیا ظالمانہ اور غلامانہ نظام حکومت مسلط کیا جو بڑی حد تک آج بھی مملکت خداداد پر نافذ ہے۔
اورنگزیب عالمگیر کے بعد عملی جدوجہد اور مہم جوئی کا مثبت دور ختم ہوا تو سو سالہ مسلسل مہم جوئی اور جدوجہد کے بعد عظیم مغلیہ سلطنت پر برطانوی راج قائم ہوا۔ 1857سے 1874تک برطانوی حکومت نے بھی جدوجہد اور مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1857کے بعد سرسید احمد خان نے علمی، عقلی، سیاسی، اصلاحی جدوجہد کا سلسلہ شروع کیا جسے علامہ اقبالؒ نے فکری، نظریاتی اور عقلی مہم جوئی یعنی خودی کے رنگ میں ڈھال دیا۔ سرسید احمد خان اور علامہ اقبالؒ کی علمی ، فکری ، نظریاتی اور سیاسی جدوجہد کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے نصب العین یعنی حصول پاکستان کیلئے سیاسی اور فکری محاذ پر انگریزوں ، اکابرین دیو بند، انگریزوں کے مراعات یافتہ مسلمانوں ، کانگرس اور کانگرسی مسلمانوں کیخلاف عقل و دانش کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر جنگ کی صورت میں لڑا اور اُنھیں شکست دیکر دس کروڑ مسلمانوں کیلئے الگ وطن حاصل کر لیا۔
انگریز مصنف لیونارڈوموزلے اپنی تصنیف ‘‘برطانوی راج کے آخری آیام’’ میں لکھتا ہے کہ کابینہ مشن کے ممبران کی قائد اعظم ؒ کے نام سے ہی ٹانگیں کانپتی تھیں ۔ قائد اعظم ؒ کے سیاسی کردار اور عملی جدوجہد کے سامنے بے بس ہو کر وائسرائے ہند نے شکست تسلیم کرتے ہوئے برطانوی حکومت کو لکھا کہ دس کروڑ ہندی مسلمان قائداعظم ؒ کی قیادت میں متحد ہیں اور تقسیم ہند کے علاوہ کچھ قبول کرنے کی خواہش نہیں رکھتے ۔ میں نے جناح سے مذاکرات کے نتیجے میں جو نتیجہ اخذ کیا ہے اُس سے کانگریس کو بھی مطلع کر دیا ہے۔ 3جون 1947کے دن کانگرس کے مشورے سے تقسیم ہند کے فارمولے کو آخری شکل دی جائے گی جس کے سوا کوئی بھی منصوبہ بے کار اور بے عمل ہو گا۔ لیو نارڈ و موزلے کیبنٹ مشن کی ناکامی کے بعد نہرو کے رویے پر قائد اعظم ؒ کے ردِ عمل کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :
‏”Mr. Jinnah reacted to Nehru’s Statement like an Army leader who has come in for armistic discussion under a Flag of Truce and finds himself looking down the barrel of a cocked revolver”
انگریز تاریخ دانوں اور دانشوروں نے مسلم دشمنی کے باوجود قائداعظمؒ کی سیاسی جدوجہد اور حصول پاکستان کیلئے عقلی مہم جوئی کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ پاکستانی سیاستدانوں ، اشرافیہ، علما و فقہا نے دو قومی نظریے اور قائد کی جدوجہد کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ آزادی کے فوراً بعد شروع کر دیا جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔
قائداعظم ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور مفاد پرست بھارت نواز سیاسی ٹولے اور اشرافیہ نے کشمیر سوچی سمجھی سازش کے تحت بھارت کے حوالے کر دیا ۔ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار اکیلا جنرل یٰحیٰحی خان ہی نہ تھا بلکہ بھٹو ، مجیب اور اُن کے ہمنوا سیاستدان اور جرنیل بھی اس جرم میں برابر کے شریک تھے ۔ جنرل یٰحیٰحی ، نیازی، گل حسن اور دیگر کا کھیل اُن کی زندگیوں کے ساتھ ہی ختم ہو گیا مگر بھٹو اب بھی زندہ ہے جبکہ مجیب مرا تو ہے مگر دوبارہ جی اُٹھنے کا خطرہ ابھی باقی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اتنی گنجلک ہے کہ اسے بیان کرنا اور سیدھی راہ تلاش کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے